صفحات

Thursday, 26 January 2017

خود آشنائی

کہتے ہیں کہ انسان اپنا بہترین دوست خود ہوتا ہے اور اپنا دشمن بھی خود، اگر وہ اپنی ذات کے ساتھ مخلص ہے تو اپنا سچا اور نایاب دوست کہلاتا ہے اور اگر وہ خود اپنی ذات کے ساتھ مخلص نہیں ہے تو پھر اُسے کسی اور دشمن کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ وہ خود اپنے اندر ایک دشمن کو پال رہا ہوتا ہے۔ ایک انسان بہترین انسان تب بنتا ہے جب وہ خود سے وفا کرے خواہ اُسے زمانہ بے وفا ہی کیوں نہ کہے جو شخص خود سے وفا نہ کرتا ہو وہ دوسروں سے کیا وفا کرے گا یا دوسروں سے کیسے وفا کی امید کر سکتا ہے جبکہ وہ خود سے بے وفائی اور مکر وفریب کرتا ہو۔ جب تک کوئی شخص اپنی عزتِ نفس کا خیال نہیں رکھتا کوئی دوسرا بھی اُس کی عزت نہیں کرتا، جس شخص کا اپنی نظروں میں ہی خود کا مقام بہت چھوٹا ہوگا اور وہ خود کو ناکارہ اور حقیر سمجھے گا تو پھر دنیا کی نظروں میں اس کا وقار و مرتبہ کیا ہوگا! خود پر یقین انسان کو اعتماد دلاتا ہے کہ وہ اعلیٰ ہے بلند تر ہے خدا نے اُسے ایک نایاب مخلوق کی صورت عطا کی ہے، وہ کچھ بھی کرنے کے قابل ہو سکتا ہے جس کا اختیار اسے حاصل ہو، اپنے آپ کی قدر و قیمت ہی انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ بہت عظیم ہے اور وہ اپنا لوہا منوا سکتا ہے۔

وہ اپنی صلاحیتوں کو جاننے کے بعد ہی دنیا میں انقلاب لا سکتا ہے دنیا میں کوئی ایسا نہیں ہے جسے خدا نے کوئی نہ کوئی ہنر عطا نہ کیا ہو۔ غریب وامیر، مردو عورت سب کو اللہ نے صلاحیتیں بخشی ہیں ضرورت اس امر کی ہے انسان اپنی عقل و فہم سے اس جوہر کو تلاش کرے پھر اُسے استعمال کرتے ہوئے دنیا میں اپنا مقام پیدا کرے،اگر انسان خود کو کسی کام کے لائق نہیں سمجھتا تو وہ خود سے جھوٹ بولتا ہے اور اپنے ساتھ ناانصافی کرتا ہے۔ خدا نے سب کو ذہن دیا ہے کوئی اسے استعمال کرکے بلند مقام و مرتبہ حاصل کرتا ہے تو کوئی اسے  استعمال نہ کرکے زنگ آلود لوہے کی مانند بنا ڈالتا ہے جس سے خود کو بھی نقصان اور شاید دوسروں کو بھی نقصان کا اندیشہ ہوسکتا ہے ایسی صورتحال میں انسان خود سے ہی جنگ کرتا ہےاور خود ہی شکست کھاتا ہے یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں وہ خود کو مات دے کر جیتنا چاہتا ہے  خود سے بے وفائی کا یہ خوب طریقہ ہے ایسے میں کسی دوسرے کی بے وفائی تو بہت معمولی ٹھہرے گی۔

اپنی اصلیت سے ہو آگاہ اے غافل! کہ توُ

قطرہ لیکن مثالِ بحرِ بے پایاں بھی ہے

انسان اپنی تقدیر خود لکھتا ہے کسی نے کہا ہے کہ غریب پیدا ہونا  آپ کا قصور نہیں ہے لیکن غریب مر جانا آپ کا قصور ہے۔ خدا نے انسان کو جو زندگی عطا کی ہے اُسے گزارنے کے لئے اختیار بھی دیا ہے کہ وہ اسے کس طرح گزارے یہ فرد نے خود فیصلہ کرنا ہے کہ اسے اُسی حال میں مرنا ہے جس میں وہ پیدا ہوا تھا یا پھر خدادا صلاحیتوں کو استعمال کرکے کسی الگ پہچان کے ساتھ اس دنیا سے جانا ہے۔ یہ دنیا جب سے قائم ہے اس میں بے شمار لوگ آئے اور چلے گئے مگر کچھ لوگ تاریخ کا حصہ بن گئے جنہیں آج بھی یاد کیا جاتا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کو نعمت سمجھ کر صِرف گزار نہیں دیا بلکہ وہ  عظیم کارنامہ ہائے سرانجام دئیے کہ ان کے نام رہتی دنیا تک امر ہوگئے،یہی وہ لوگ تھے جو خود اپنے آپ کے اچھے دوست تھے اُنہوں نے اپنے آپ کے ساتھ وفا کی اور اس کا صلہ بھی انہیں مل گیا۔

لوگوں کی بدحالی، غفلت اور جہالت کی وجہ ان کی قسمت یا معاشرہ نہیں بلکہ وہ  خود ہیں جو اپنے آپ کو اُس خوابِ غفلت سے بیدار نہیں کرنا چاہتے، وہ خوابِ غفلت میں یوں مگن ہیں کہ انہیں جاگنے کا ہوش ہی باقی نہیں رہا، انسان جب اپنی قیمت سے آشنا ہو تو اس کو بہتر مواقع ملتے ہیں۔ زندگی میں مشکلات اور دشواریاں، انسان کو مزید نکھار بخشتی ہیں جیسے لوہا آگ میں پگھل جانے کے بعد کندن ہوجاتا ہے اسی طرح فرد سختیا ں جھیل کر ایک نایاب ہیرا بن جاتا ہے جس کی کوئی قیمت نہیں لگا سکتا۔ انسان جب کسی منزل کا تعین کرکے چل نکلتا ہے تو راستے میں جو بھی مشکلات آئیں ان سے نمٹنا پڑتا ہے اس کی مثال ایک درخت کی سی ہے کہ اگر اس کا پھل کھانے کی  خواہش ہے تو اس کی دیکھ بھال کرنا پڑے گی ، اسے بروقت پانی اور کھاد  دینا پڑتے ہیں اس کے لئے کئی جتن کرنا پڑتے ہیں لیکن اگر یہ محنت کسی اور نے کی ہے تو اس کا پھل بھی وہی کھائے گا، آپ کو تو نہیں مل سکتا آپ کو تو اپنی محنت کا صلہ ملے گا اگر لالچ کریں گے تو انجام اُس بیوقوف کتے کی طرح ہوگا  جس نے لالچ میں آکر اپنا گوشت کا ٹکڑا  بھی کھو دیا تھا۔

اس لیے خود پر رحم کرنا سیکھیں ورنہ بعد میں پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا، وقت کی قدر کرکے اس کو اچھے کاموں میں صَرف کریں ، خود کو جہالت کی دلدل  سے نکالیں کیونکہ باہر سے کوئی آپ کی مدد کو نہیں آئے گا جب تک آپ خود اپنی مدد آپ نہیں کریں گے۔

آہ کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے

راہ تُو، رہرو بھی توُ، رہبر بھی تو، منزل بھی تُو

میری یہ تحریر ماہنامہ نوائے منزل لاہور میں جنوری 2017ء کے شمارے میں شائع ہوئی ہے

Tuesday, 14 April 2015

حصول تعلیم، ہمارا معاشرتی المیہ

صائمہ رمضان- چراغ سحر
  ہمارا معاشرہ جس میں بہت سے لوگ رہتے ہیں جن میں پنجابی، پٹھان، کشمیری اور بہت سے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں مختلف نسلیں اور ذاتیں آباد ہیں ہر ایک خاندان ،نسل اور ذات اپنا اصول اور نقطہ نظر رکھنے والی ہے۔ بہر حال جوبھی ہے ہم پاکستانی ہیں اورمسلمان ہیں ۔ اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ہم دیگر مسلمانوں کی فلاح کے لیے بھی سوچیں۔ ،مگر آج کے دور میں بہت سے فرقے اورگروہ بنے ہوئے ہیں وہ لوگوں کو غلط راستے کی طرف راغب کررہے ہیں جس وجہ سے نئی نسل بہت زیادہ متاثر ہو رہی ہے ہر کوئی اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔ مگر ان سب معاملات  میں ان معصوم بچوں کا کیا قصور؟ ویسے تو ہمارے معاشرے میں بہت نزدیک جرائم  اور مظالم پائے جاتے ہیں لیکن میرے نزدیک اس قوم پر سب سے بڑا ظلم نئی نسل کو ان کے حق سے دور رکھناہے والدین کا کام صرف بچے پیدا کرنا ہی تو نہیں کہ یہ اب اس دنیا میں آ گئے ہیں تو خود ہی پل جائیں گے  بلکہ بچوں کی پرورش اور ان کی مناسب تعلیم و تربیت بھی  والدین کے ذمہ ہےاگر چہ اللہ تعالیٰ رزق کا ذمہ دار ہے مگر والدین کا بھی تو فرض بنتا ہے کہ جو نعمت اللہ نے انہیں دی ہے اسے خوشی سے قبول کریں اور جب آپ والدین بن چکے ہیں تو آپ کا یہ فرض ہے کہ اپنے بچوں کی اچھی پرورش کریں پرورش سے مراد یہ نہیں کہ آپ انہیں اچھے اور قیمتی سوٹ بوٹ لے کر دیں اچھی جگہ پر لے کر جائیں اچھے کھانے کھلائیں نئی ایجادات کی چیزیں لے کر دیں بلکہ پرورش کا مطلب ہے کہ اپنے بچوں کو تعلیم دلائیں اٹھنے بیٹھنے کا سلیقہ بتائیں بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر رحم کرنا سکھائیں یہ سب صرف باتیں کرنے یا نصیحتیں کرنے سے نہیں ہوتا بلکہ عملی طور پرکرنے سے ہوتا ہے۔
آج کل جیسے کہ اب تعلیم حاصل کرنا مشکل نہیں ہے پھر بھی لوگ اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلاتے مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اگر ایک کھیت میں بیچ بودئیے جائیں اور پھر اسے وقت پر پانی نہ دیا جائےنہ ہی ان کا خیال رکھا جائے تو کیا آپ امید کرتے ہیں کہ ایک دن وہ ایک گھنا سایہ دار درخت بن کر آپ کو چھا ؤں دے گا بلکہ وہ تو شروع میں ہی تباہ ہوجائے گا یہی حال ہمارے بچوں کا ہے اگر ہماری نئی نسل پڑھےگی نہیں، لکھے گی نہیں، تو وہ ہمیں کل کی مشکلات سے کل کی دھوپ سے (بیرون ملک یاکسی کی سازش و حملہ سے)کیسے بچائے گی یہ قوم ہی تو ہمارا مستقبل ہے اگر یہ بچے کامیاب طور پر تیار نہیں ہوں گے تو ہم تیز آندھی اورطوفان سے کیسے بچیں گے اور کیسے ان کا مقابلہ کریں گے۔ان سب امور سے نبٹنے کے لئے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا اورانہیں خود کو اس بات کا احساس دلانا ہوگا کہ تعلیم وتربیت کے بغیر ہم یہ سب کچھ نہیں کر سکتے ۔یہ ہمیں ہی کرنا ہوگا ہم کریں گے ،ہم ہی ہیں، وہ ہم ہی ہیں جو اس ملک وقو م کو اندھیروں سے اجالے کی طرف لے کر جائیں گے ۔ ہماری قوم کے لوگ خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ نہیں دیتے،ان کا خیال ہے کہ ایک لڑکی کے پڑھنے کا کیا فائدہ آخر سنبھالنا تو اس نے چولہا ہی ہے ،دھونے تو اس نے برتن اور کپڑے ہیں، پیدا تو کرنے بچے ہیں پھر ان سب مشکلوں کا کیا فائدہ اس نے کونسا کوئی نوکری کرنی ہے کمانا تو مرد کا کام ہے مگر ایسے والدین کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ اگر وہ عورت نوکری نہ بھی کرے پھر بھی ہے تووہ ایک انسان! اور تعلیم انسان کا بنیادی حق ہے۔ اگر وہ تعلیم یافتہ نہیں ہوگی تو اپنے گھر کوکیسے سنبھالے گی اپنے خاوند کو کیسے سمجھے گی پھر جو اس کی اولاد ہوگی اس کی پرورش کیسے کرے گی جو کہ بچے کی اہم ضرورت ہے۔
اگر وہ ان پڑھ ہوگی تو اس کی اولاد بھی ویسے ہی غیر تربیت یافتہ رہ جائے گی ایک تعلیم یافتہ فرد ہی  تعلیم کی قدر سمجھ سکتا ہے ان پڑھ کو اس سے کیا واسطہ بات صرف اتنی ہے کہ تعلیم ضرورت ہے ہر عورت کی ہر لڑکی کی ہر بچی کی خواہ وہ ایک نوکری کرنے والی عورت ہو یا وہ ایک گھر سنبھالنے والی عورت ہو ایک پڑھی لکھی عورت سے گھر محض اینٹوں کا گھر نہیں بلکہ ایک خوبصورت جنت بن جاتا ہے حال میں لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ چند ایسے مسائل معاشرے میں جنم لے چکے ہیں کہ بچیوں کے لئے تعلیم حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے ایک طرف تو مالی حالات کی بات سامنے آتی ہے جس کی وجہ سے غریب خاندان اس مہنگائی کے زمانہ میں بچوں کو تعلیم نہیں دلوا سکتے وہ مشکل سے صرف دو وقت کی روٹی کما کر کھا سکتے ہیں پھر وہ اپنے بچوں کی فیسیں کیونکر ادا کر سکیں گے ویسے تو ہماری حکومت نے دہم کلاس تک تعلیم مفت کردی ہے جہاں طلباء اور طالبات مفت نصاب بھی حاصل کر سکتے ہیں مگر یہ بے حس معاشرے کے لوگ ہیں جو ننھے بچوں کی آنکھوں سے خواب چھین لیتے ہیں ان کے ہاتھوں میں قلم اور کتاب پکڑانے کی بجائے کام کرنے والی چیز پکڑا دیتے ہیں کندھوں پر بستہ ڈالنے کی بجائے  مزدوری کا بوجھ ڈال دیتے ہیں۔
تعلیم حاصل کرنا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرض قرار دیا ہے پھر یہ کونسا قانون ہے جس میں ننھے بچوں کے ساتھ ایسی بے انصافی ہو رہی ہے انصاف کی تو بات ہی نہ کریں۔ جو والدین بچوں خصوصاً لڑکوں کو اس لئے پڑھاتے ہیں کہ وہ بڑھاپے میں ان کا سہارا بنیں گے  وہ ان کو کما کر دیں گے اور لڑکیوں کو صرف اس لئے نہیں پڑھاتے کہ یہ تو پرایا دھن ہوتی ہیں ہم نے کونسا ان کو نوکری کروانی ہے ہم نے کونسا ان کی کمائی کھانی ہے۔خدارا! یہ سوچ بدل دیں کچھ تو خوفِ خدا کریں۔ بچے آپ کی اولاد ہیں پیسے کمانے والی مشین تو نہیں۔ تعلیم حاصل کرنا ان کا حق ہے اور آپ ان کا حق ان سے نہیں چھین سکتے۔ رحم کریں۔  یہ بچے تو اس منزل کا ایک پل ہیں جس پر کامیابی آپ کی منتظر ہے۔ یہ تو غربت زدہ لوگوں کی بات تھی اس کے علاوہ بھی بہت سے مسائل ہیں جن کے بوجھ تلے  ننھے بچے اور بچیاں دبے ہوئے ہیں حالات روز بروز خراب ہوتے جا رہے ہیں بہت سے جرائم معاشرے میں جڑیں پکڑ چکے ہیں جن میں بے حیائی، بے شرمی، دہشت گردی اور بہت سے دوسرے عناصر شامل ہیں۔ کچھ مثالیں ایسی ہیں جنہیں لکھتے وقت میرا قلم کانپتا ہے جن کی وجہ سے ایک عورت اپنے آپ کو بے بس اور لاچار سمجھتی ہے آج کل تعلیمی اداروں میں  سے بے حیائی کے جیسے واقعات سامنے آتے ہیں جن سے معاشرے پر بڑا منفی اثر پڑتا ہے والدین اپنی بچیوں کو گھرسے باہر تعلیم دلوانے سے ڈرتے ہیں کہ خدانخواستہ ان کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش نہ آجائے پس لوگ مجبور اور لاچار ہوگئے ہیں چند اداروں اور  چند بگڑے ہوئے بچوں کی وجہ سے  سب کو ہی ایسے دیکھا جاتا ہے مگر اس وجہ سے ہم پیچھے تو نہیں ہٹ سکتے بلکہ ہمیں مل کر ڈٹ کر ان سب مسائل کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا ہمارے ملک کی ذمہ داری اب ہمارے کندھوں پر ہے ہم اپنے ملک کی خاطر جان بھی دے سکتے ہیں اور جان لے بھی سکتے ہیں یہ ہمارا ملک ہے ہم اس کے محافظ ہیں۔ ان شاء ا للہ! ایک نہ ایک دن ہم اپنی کوشش میں کامیاب ضرور ہوں گے۔