صفحات

Wednesday, 5 April 2017

کم سن بچوں کی حوصلہ افزائی‎

  از صائمہ رمضان
زندگی ایک طویل سفر کی مانند ہے جس کے گزر جانے کے بعد وہ مختصر سا وقت محسوس ہوتی
ہے یہ ایک پانی کے بلبلے کی طرح ہے جو نجانے کب پھٹ جائے، اس میں امتحانات اور دُشواریاں سبھی کو درپیش ہوتی ہیں کبھی انسان عقلمندی سے ان کا سامنا کرتا ہے تو کبھی جذبات کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے اپنی پیدائش کے بعد وقت کے ساتھ انسان نت نئی چیزیں دیکھتا اور نئے کام سیکھتا رہتا ہے اور سوجھ بوجھ میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے، ٹین ایج میں نادانی اور جذبات عروج پر ہوتے ہیں اکثر ٹین ایجر معاملات کو ان کی درست صورت میں سمجھ نہیں پاتے ایسے میں بعض اوقات غفلت کے مرتکب ہوجاتے ہیں جس میں حقیقتاً وہ قصور وار نہیں ہوتے لیکن بظاہر وہ زمانے کی نظر میں ”مجرم“ بن جاتے ہیں حالانکہ اس میں رہنمائی کی کمی اور کم عمری کا عمل زیادہ ہوتا ہے۔​
ٹین ایج میں بچے زمانہ شناس نہیں ہوتے اور نہ ہی مکر و فریب کے جال سے آگاہ ہوتے ہیں یہ معصومیت کی عمر ہوتی ہے اس میں اگر ان سے کوئی غلطی کوتاہی سرزد ہوجائے تو اسے نظر انداز کرکے محبت کے ساتھ ان کی الجوئی کرنی چاہیے اور ان کا اعتماد جیتنا چاہیے۔ انہیں اپنے گھر میں بڑے بہن بھائی، والدین اور اساتذہ کی شفقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ بچوں کے جذبات و احساسات کو سمجھے بغیر ہر کوئی جج بننے کی کوشش کرتا ہے اور بچوں کو ڈسپلن کے نام پر سخت قسم کی ذہنی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان کے ذہن میں بچپن ہی سے سزا کا خوف ڈال دیا جاتا ہے اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ بچے بغاوت کرنے پر تُل جاتے ہیں۔جو بات تحمل کے ساتھ بیٹھ کر سمجھائی جا سکتی ہو اس کا ڈھنڈورا پیٹ کر بچے کو ”گناہ“ کا شدید احساس دلانے اور اُس کے ہم عمر بچوں میں اس کی رُسوائی کرنے کی کیا ضرورت ہے! بعض اوقات احساسِ گناہ سے بچے کی شخصیت کے اندر ایک باصلاحیت کردار مُرجھانا شروع ہو جاتا ہے جو آہستہ آہستہ ایک ناکارہ فرد کو جنم دیتا ہے۔ ایسے افراد معاشرے پر بوجھ اور نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔
اگر بچوں کو بار بار ان کی غلطیاں جتلا کر مسلسل ان کی ننھی شخصیت کی رُسوائی جاری رکھی جائے تو یہ خاندان بھر کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ایک انسان اپنے معاملات میں تو وکیل بن کر ہزاروں دلائل اکٹھے کرکے خود کو سچا ثابت کرتا ہے لیکن وہی شخص دوسروں کے لیے ایک ظالم جج کا روپ دھار کر سخت فیصلے صادر کرتا ہے۔اگر والدین، عزیز و اقارب بچوں کے ساتھ قدم قدم پر اعتماد کے ساتھ چلیں تو بہت سی مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں، ورنہ نادان بچے سے غلطی تو ہو سکتی ہے لیکن اُسے سنبھالنے کے لیے بھی عقل و تدبر کی ضرورت ہوتی ہے، انسان سے غلطیاں سرزد ہوجاتی ہیں اگر ایسا نہ ہو تو وہ فرشتے کہلائیں لیکن خدا کی طرف سے توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے اگر شفقت و اُنس کے ساتھ بچوں کو سمجھایا جائے تو وہ راہِ راست پر آ سکتے ہیں اور اگر خدا ان کو معاف کر سکتا ہے تو پھر یہ لو گ کون سے جھوٹے خدا ہیں جو ہر وقت کوستے رہتے ہیں۔
در اصل جب بچے بالغ ہو رہے ہوتے ہیں تو یہ ان کی عمر کا بہت نازک موڑ ہوتا ہے جس میں نئی تبدیلیاں آتی ہیں اور نئے رُجحانات جنم لیتے ہیں ۔ ہمارے ہاں یہ رواج بھی پایا جاتا ہے کہ لڑکے جو مرضی کرتے پھریں انہیں کوئی پوچھنے والا یا سمجھانے والا نہیں ہے لیکن اگر کسی لڑکی سے جانے انجانے میں کوئی غلط قدم اُٹھ گیا تو وہ پھر سب کے عتاب کانشانہ بنتی ہے معاشرے میں ایک غلط عقیدہ پروان چڑھ چکا ہے کہ شاید عزت صرف لڑکیوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے حالانکہ قرآن مجید میں نظریں نیچے رکھنے کا حکم پہلے مردوں کو ہے پھر عورتوں والی آیت آتی ہے، لیکن یہاں غلطی کی سزا صرف عورت کو دی جاتی ہے اور ایک ”گناہ“ زندگی بھر کے لئے اس کے ساتھ چپک جاتا ہے کیونکہ یہ جذباتی لوگوں کا ایک جاہل جاہل معاشرہ ہے جہاں علم سے بے بہرہ اور عدل و انساف سے بے خبر لوگ رہتے ہیں۔
لوگ اپنے متشدد رویوں سے بچوں کا مستقبل خراب کر دیتے ہیں مقصد صرف اتنا ہونا چاہیے کہ جنسی تفریق کیے بغیر بے یا بچی کے نازک احساسات کو سمجھ کر اُن کے حق میں لڑنا چاہیے، وہ اس خوف سے بے نیاز ہوں کہ کوئی ان کا بال بھی بیکا کر سکتا ہے، خود اعتمادی ہی انہیں بے یقینی کی دلدل سے باہر نکال سکتی ہے، چھوٹے معاملات سے صرفِ نظر کرکے ان کی رہنمائی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور محبت و تعاون کر نا چاہیے تاکہ بچے پُر اعتماد ہوکر ایک اچھی زندگی بسر کر سکیں۔
صائمہ رمضان

Thursday, 26 January 2017

خود آشنائی

کہتے ہیں کہ انسان اپنا بہترین دوست خود ہوتا ہے اور اپنا دشمن بھی خود، اگر وہ اپنی ذات کے ساتھ مخلص ہے تو اپنا سچا اور نایاب دوست کہلاتا ہے اور اگر وہ خود اپنی ذات کے ساتھ مخلص نہیں ہے تو پھر اُسے کسی اور دشمن کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ وہ خود اپنے اندر ایک دشمن کو پال رہا ہوتا ہے۔ ایک انسان بہترین انسان تب بنتا ہے جب وہ خود سے وفا کرے خواہ اُسے زمانہ بے وفا ہی کیوں نہ کہے جو شخص خود سے وفا نہ کرتا ہو وہ دوسروں سے کیا وفا کرے گا یا دوسروں سے کیسے وفا کی امید کر سکتا ہے جبکہ وہ خود سے بے وفائی اور مکر وفریب کرتا ہو۔ جب تک کوئی شخص اپنی عزتِ نفس کا خیال نہیں رکھتا کوئی دوسرا بھی اُس کی عزت نہیں کرتا، جس شخص کا اپنی نظروں میں ہی خود کا مقام بہت چھوٹا ہوگا اور وہ خود کو ناکارہ اور حقیر سمجھے گا تو پھر دنیا کی نظروں میں اس کا وقار و مرتبہ کیا ہوگا! خود پر یقین انسان کو اعتماد دلاتا ہے کہ وہ اعلیٰ ہے بلند تر ہے خدا نے اُسے ایک نایاب مخلوق کی صورت عطا کی ہے، وہ کچھ بھی کرنے کے قابل ہو سکتا ہے جس کا اختیار اسے حاصل ہو، اپنے آپ کی قدر و قیمت ہی انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ بہت عظیم ہے اور وہ اپنا لوہا منوا سکتا ہے۔

وہ اپنی صلاحیتوں کو جاننے کے بعد ہی دنیا میں انقلاب لا سکتا ہے دنیا میں کوئی ایسا نہیں ہے جسے خدا نے کوئی نہ کوئی ہنر عطا نہ کیا ہو۔ غریب وامیر، مردو عورت سب کو اللہ نے صلاحیتیں بخشی ہیں ضرورت اس امر کی ہے انسان اپنی عقل و فہم سے اس جوہر کو تلاش کرے پھر اُسے استعمال کرتے ہوئے دنیا میں اپنا مقام پیدا کرے،اگر انسان خود کو کسی کام کے لائق نہیں سمجھتا تو وہ خود سے جھوٹ بولتا ہے اور اپنے ساتھ ناانصافی کرتا ہے۔ خدا نے سب کو ذہن دیا ہے کوئی اسے استعمال کرکے بلند مقام و مرتبہ حاصل کرتا ہے تو کوئی اسے  استعمال نہ کرکے زنگ آلود لوہے کی مانند بنا ڈالتا ہے جس سے خود کو بھی نقصان اور شاید دوسروں کو بھی نقصان کا اندیشہ ہوسکتا ہے ایسی صورتحال میں انسان خود سے ہی جنگ کرتا ہےاور خود ہی شکست کھاتا ہے یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں وہ خود کو مات دے کر جیتنا چاہتا ہے  خود سے بے وفائی کا یہ خوب طریقہ ہے ایسے میں کسی دوسرے کی بے وفائی تو بہت معمولی ٹھہرے گی۔

اپنی اصلیت سے ہو آگاہ اے غافل! کہ توُ

قطرہ لیکن مثالِ بحرِ بے پایاں بھی ہے

انسان اپنی تقدیر خود لکھتا ہے کسی نے کہا ہے کہ غریب پیدا ہونا  آپ کا قصور نہیں ہے لیکن غریب مر جانا آپ کا قصور ہے۔ خدا نے انسان کو جو زندگی عطا کی ہے اُسے گزارنے کے لئے اختیار بھی دیا ہے کہ وہ اسے کس طرح گزارے یہ فرد نے خود فیصلہ کرنا ہے کہ اسے اُسی حال میں مرنا ہے جس میں وہ پیدا ہوا تھا یا پھر خدادا صلاحیتوں کو استعمال کرکے کسی الگ پہچان کے ساتھ اس دنیا سے جانا ہے۔ یہ دنیا جب سے قائم ہے اس میں بے شمار لوگ آئے اور چلے گئے مگر کچھ لوگ تاریخ کا حصہ بن گئے جنہیں آج بھی یاد کیا جاتا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کو نعمت سمجھ کر صِرف گزار نہیں دیا بلکہ وہ  عظیم کارنامہ ہائے سرانجام دئیے کہ ان کے نام رہتی دنیا تک امر ہوگئے،یہی وہ لوگ تھے جو خود اپنے آپ کے اچھے دوست تھے اُنہوں نے اپنے آپ کے ساتھ وفا کی اور اس کا صلہ بھی انہیں مل گیا۔

لوگوں کی بدحالی، غفلت اور جہالت کی وجہ ان کی قسمت یا معاشرہ نہیں بلکہ وہ  خود ہیں جو اپنے آپ کو اُس خوابِ غفلت سے بیدار نہیں کرنا چاہتے، وہ خوابِ غفلت میں یوں مگن ہیں کہ انہیں جاگنے کا ہوش ہی باقی نہیں رہا، انسان جب اپنی قیمت سے آشنا ہو تو اس کو بہتر مواقع ملتے ہیں۔ زندگی میں مشکلات اور دشواریاں، انسان کو مزید نکھار بخشتی ہیں جیسے لوہا آگ میں پگھل جانے کے بعد کندن ہوجاتا ہے اسی طرح فرد سختیا ں جھیل کر ایک نایاب ہیرا بن جاتا ہے جس کی کوئی قیمت نہیں لگا سکتا۔ انسان جب کسی منزل کا تعین کرکے چل نکلتا ہے تو راستے میں جو بھی مشکلات آئیں ان سے نمٹنا پڑتا ہے اس کی مثال ایک درخت کی سی ہے کہ اگر اس کا پھل کھانے کی  خواہش ہے تو اس کی دیکھ بھال کرنا پڑے گی ، اسے بروقت پانی اور کھاد  دینا پڑتے ہیں اس کے لئے کئی جتن کرنا پڑتے ہیں لیکن اگر یہ محنت کسی اور نے کی ہے تو اس کا پھل بھی وہی کھائے گا، آپ کو تو نہیں مل سکتا آپ کو تو اپنی محنت کا صلہ ملے گا اگر لالچ کریں گے تو انجام اُس بیوقوف کتے کی طرح ہوگا  جس نے لالچ میں آکر اپنا گوشت کا ٹکڑا  بھی کھو دیا تھا۔

اس لیے خود پر رحم کرنا سیکھیں ورنہ بعد میں پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا، وقت کی قدر کرکے اس کو اچھے کاموں میں صَرف کریں ، خود کو جہالت کی دلدل  سے نکالیں کیونکہ باہر سے کوئی آپ کی مدد کو نہیں آئے گا جب تک آپ خود اپنی مدد آپ نہیں کریں گے۔

آہ کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے

راہ تُو، رہرو بھی توُ، رہبر بھی تو، منزل بھی تُو

میری یہ تحریر ماہنامہ نوائے منزل لاہور میں جنوری 2017ء کے شمارے میں شائع ہوئی ہے